السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال الضرب الأول من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بُزْرُجٍ، قَالَ: خَرَجَ أَسْوَدٌ الْكَذَّابُ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَنْسٍ، وَكَانَ مَعَهُ شَيْطَانَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: سَحِيقٌ، وَالْآخَرُ: شَقِيقٌ، وَكَانَا يُخْبِرَانِهِ بِكُلِّ شَيْءٍ يَحْدُثُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَسَار الْأَسْوَدُ حَتَّى أَخَذَ ذَمَارَ. فَذَكَرَ قِصَّةً فِي شَأْنِهِ، وَتَزَوُّجِهِ بِالْمِرْزِبَانَةِ امْرَأَةِ بَاذَانَ، وَأَنَّهَا سَقَتْهُ خَمْرًا صَرْفًا حَتَّى سَكِرَ فَدَخَلَ فِي فِرَاشِ بَاذَانَ، كَانَ مِنْ رِيشٍ، فَانْقَلَبَ عَلَيْهِ الْفِرَاشُ، وَدَخَلَ فَيْرُوزٌ وَخُرَّزَاذُ بْنُ بُزْرُجٍ، فَأَشَارَتْ إِلَيْهِمَا الْمَرْأَةُ أَنَّهُ فِي الْفِرَاشِ، وَتَنَاوَلَ فَيْرُوزٌ بِرَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَعَصَرَ عُنُقَهُ فَدَقَّهَا، وَطَعَنَهُ ابْنُ ُبُزْرُجٍ بِالْخَنْجَرِ فَشَقَّهُ مِنْ تَرْقُوَتِهِ إِلَى عَانَتِهِ، ثُمَّ احْتَزَّ رَأْسَهُ، وَخَرَجُوا وَأَخْرَجُوا الْمَرْأَةَ مَعَهُمْ، وَمَا أَحَبُّوا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً أُخْرَى، وَفِيهَا قَدُْومُ فَيْرُوزٍ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَّهُ قَالَ لِفَيْرُوزٍ: كَيْفَ قَتَلْتَ الْكَذَّابَ؟ قَالَ: اللهُ قَتَلَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَرَجَعَ فَيْرُوزٌ إِلَى الْيَمَنِ.نعمان بن بزرج کہتے ہیں کہ اسود کذاب نکلا، یہ بنو عنس کا ایک شخص تھا۔ اس کے ساتھ ٢ شیطان تھے۔ ایک کا نام مسحیق اور دوسرے کا شقیق تھا۔ یہ دونوں اسے لوگوں کے غیبی معاملات کی خبر دیا کرتے تھے۔ اسود چلا اور اس نے اپنی حفاظت کا انتظام بھی کیا۔ پھر مکمل قصہ بیان کیا کہ اس نے باذان کی بیوی مرزبانہ کے ساتھ کس طرح شادی کی، ایک رات اس نے اسے شراب پلائی اتنی کہ یہ نشے سے مدہوش ہو گیا۔ جب وہ باذان کے بستر میں داخل ہو گیا تو اس پر بستر کو پلٹ دیا، فیروز اور خرزاذ بن بزرج داخل ہوئے اور اس عورت نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بستر میں ہے تو فیروز نے اسے سر اور داڑھی سے پکڑا اور خرزاذ نے خنجر نکالا اور حلق سے گدی تک کاٹ دیا اور سر کو پھینکا اور عورت کو ساتھ لے کر چلے گئے اور ساتھ میں گھر سے پسند کا سامان بھی اٹھا لیا۔ پھر لمبا قصہ بیان کیا کہ جس میں یہ تھا کہ فیروز پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فیروز! اس کذاب کو کیسے قتل کیا تھا؟ تو جواب دیا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے اسے قتل کیا تھا۔ کہا: ہاں! لیکن مجھے وہ واقعہ سناؤ، تو فیروز نے پورا واقعہ سنایا اور پھر یمن چلے گئے۔