السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال الضرب الثاني من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی دوسری قسم (مدعیانِ نبوت وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُمْ قَوْمٌ تَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ، وَمَنَعُوا الصَّدَقَاتِ، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِقِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام پر قائم رہے لیکن انہوں نے زکوٰۃ (ادا کرنے) سے انکار کر دیا۔“
اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے واقعے سے استدلال کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَنْبَأَ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗٣٠٦⦘ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ نُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو عرب کے کچھ قبیلوں نے کفر کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ ان سے کیسے لڑیں گے؟ جبکہ نبی ﷺ نے یہ فرمایا ہے: ”لوگوں کے کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھنے تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم ہے، جب وہ کلمہ کا اقرار کر لیں تو اپنا مال اور خون انہوں نے مجھ سے بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے“، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں ان سے ضرور لڑوں گا، زکوٰۃ مال کا حق ہے، اگر یہ نبی ﷺ کو ایک رسی «عِقَالًا» ”اونٹ باندھنے کی رسی“ بھی زکوٰۃ میں دیتے تھے اور اب اس کا انکار کیا تو میں ضرور لڑوں گا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی طرح کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو کھول دیا اور میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔