السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في قتال الضرب الأول من أهل الردة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ غَازِيًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ الْبَقِيعِ خَافَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ سَيْفَ اللهِ، وَنَدَبَ مَعَهُ النَّاسَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسِيرَ فِي ضَاحِيَةِ مُضَرَ فَيُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يَسِيرَ إِلَى الْيَمَامَةِ فَيُقَاتِلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ، فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَاتَلَ طُلَيْحَةَ الْكَذَّابَ الْأَسَدِيَّ فَهَزَمَهُ اللهُ، وَكَانَ قَدِ اتَّبَعَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، فَلَمَّا رَأَى طُلَيْحَةُ كَثْرَةَ انْهِزَامِ أَصْحَابِهِ قَالَ: وَيْلَكُمْ مَا يَهْزِمُكُمْ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَأَنَا أُحَدِّثُكَ مَا يَهْزِمُنَا، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ صَاحِبُهُ قَبْلَهُ، وَإِنَّا لَنَلْقَى قَوْمًا كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ، ثُمَّ أَسْلَمَ ⦗٣٠٥⦘ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ، وَمَضَى خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى دَنَا مِنْ حَيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ، وَكَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكَ الصَّدَقَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَرِيَّةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ قَالَ: وَمَضَى خَالِدٌ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَاتَلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، فَاسْتَشْهَدَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا كَثِيرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهَزَمَ اللهُ مُسَيْلِمَةَ وَمَنْ مَعَهُ، وَقَتَلَ مُسَيْلِمَةَ يَوْمَئِذٍ مَوْلًى مِنْ مَوَالِي قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: وَحْشِيُّ.امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ منورہ کی طرف سے خوف ہوا، وہ واپس آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور انہیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو، پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں، اور پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھی کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیوں شکست کھا رہے ہو؟“ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: ”میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں اور دوسرا مارا جائے، اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔“ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ابن اقرم رضی اللہ عنہما کو شہید کیا۔ جب حق غالب آ گیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہو گیا اور عمرہ کے لیے مدینہ منورہ میں تلبیہ کہا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا اور مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا، اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کر دیا تھا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ الحدیث۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہو گیا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ تھا۔