کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هُمْ قَوْمٌ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، مِثْلُ طُلَيْحَةَ وَمُسَيْلَمَةَ وَالْعَنْسِيِّ وَأَصْحَابِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، جیسے طلیحہ، مسیلمہ، (اسود) عنسی اور ان کے ساتھی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيْتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا، صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے تو میرے ہاتھوں پر دو سونے کے کنگن رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے تو مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک دوں۔ میں نے پھونکا تو وہ چلے گئے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ میرے عہد میں ہی وہ کذاب ہوں گے، ایک صاحبِ صنعاء اور دوسرا صاحبِ یمامہ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَوَّلُ رَدَّةٍ كَانَتْ فِي الْعَرَبِ مُسَيْلِمَةُ بِالْيَمَامَةِ فِي بَنِي حَنِيفَةَ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ كَعْبٍ الْعَنْسِيُّ بِالْيَمَنِ، فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ طُلَيْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ الْأَسَدِيُّ فِي بَنِي أَسَدٍ يَدَّعِي النُّبُوَّةَ يَسْجَعُ لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے عرب میں ارتداد کا شکار یمامہ میں مسیلمہ ہوا، جو بنو حنیفہ سے تھا، اور اسود بن کعب عنسی یمن میں نبی ﷺ کی زندگی ہی میں اور طلیحہ بن خویلد اسدی بنو اسد سے، جو نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اور ان سب کے لیے سجع کلامی کرتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ غَازِيًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ الْبَقِيعِ خَافَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ سَيْفَ اللهِ، وَنَدَبَ مَعَهُ النَّاسَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسِيرَ فِي ضَاحِيَةِ مُضَرَ فَيُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يَسِيرَ إِلَى الْيَمَامَةِ فَيُقَاتِلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ، فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَاتَلَ طُلَيْحَةَ الْكَذَّابَ الْأَسَدِيَّ فَهَزَمَهُ اللهُ، وَكَانَ قَدِ اتَّبَعَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، فَلَمَّا رَأَى طُلَيْحَةُ كَثْرَةَ انْهِزَامِ أَصْحَابِهِ قَالَ: وَيْلَكُمْ مَا يَهْزِمُكُمْ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَأَنَا أُحَدِّثُكَ مَا يَهْزِمُنَا، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ صَاحِبُهُ قَبْلَهُ، وَإِنَّا لَنَلْقَى قَوْمًا كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ، ثُمَّ أَسْلَمَ ⦗٣٠٥⦘ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ، وَمَضَى خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى دَنَا مِنْ حَيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ، وَكَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكَ الصَّدَقَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَرِيَّةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ قَالَ: وَمَضَى خَالِدٌ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَاتَلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، فَاسْتَشْهَدَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا كَثِيرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهَزَمَ اللهُ مُسَيْلِمَةَ وَمَنْ مَعَهُ، وَقَتَلَ مُسَيْلِمَةَ يَوْمَئِذٍ مَوْلًى مِنْ مَوَالِي قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: وَحْشِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا اور عرب میں سے جو مرتد ہوئے وہ اسلام سے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جہاد کے لیے نکلے۔ جب بقیع کی جانب نقع (نامی جگہ) تک پہنچے تو مدینہ منورہ کے بارے میں خوف ہوا، وہ واپس آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو، جو اللہ کی تلوار تھے، امیر بنایا اور لوگوں کو ان کے ساتھ جانے کے لیے بلایا اور حکم دیا کہ مضر کے اطراف میں جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو، پھر یمامہ کی طرف جا کر مسیلمہ کذاب سے قتال کریں، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چلے اور طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اللہ نے اسے شکست دی۔ عیینہ بن حصن بن حذیفہ فزاری بھی اس کے پیچھے لگ گیا تھا۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھی کثرت سے شکست کھا رہے ہیں تو کہنے لگا: ”تمہارا ناس ہو! تمہیں کیا چیز شکست دے رہی ہے؟“ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: ”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیں کیا چیز شکست دے رہی ہے: ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا ساتھی اس سے پہلے مرے، اور ہم ایسی قوم سے لڑ رہے ہیں جن میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے پہلے مرے۔“ طلیحہ لڑائی میں بڑا سخت تھا اور اس نے اس دن سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ابن اقرم رضی اللہ عنہما کو شہید کیا۔ جب حق طلیحہ پر غالب آ گیا تو وہ (سواری سے) اتر گیا، پھر مسلمان ہو گیا اور عمرہ کا احرام باندھا اور امن کے ساتھ لوگوں میں سوار ہو کر چلتا رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا، اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ کی طرف بڑھے یہاں تک کہ قبیلہ بنو تمیم کی ایک بستی کے قریب پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا، اس نے اپنی قوم کا صدقہ وصول کیا تھا، جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو اس نے صدقہ روک لیا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ پھر مالک بن نویرہ کے قتل کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ کہا: اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھ بنو حنیفہ کے لوگوں سے لڑائی کی، تو اللہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے مہاجرین و انصار کے بہت سے لوگوں کو شہادت عطا فرمائی اور اللہ نے مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کو شکست دی، اور اس دن مسیلمہ کو قریش کے ایک آزاد کردہ غلام نے قتل کیا جس کا نام سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بُزْرُجٍ، قَالَ: خَرَجَ أَسْوَدٌ الْكَذَّابُ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَنْسٍ، وَكَانَ مَعَهُ شَيْطَانَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: سَحِيقٌ، وَالْآخَرُ: شَقِيقٌ، وَكَانَا يُخْبِرَانِهِ بِكُلِّ شَيْءٍ يَحْدُثُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَسَار الْأَسْوَدُ حَتَّى أَخَذَ ذَمَارَ. فَذَكَرَ قِصَّةً فِي شَأْنِهِ، وَتَزَوُّجِهِ بِالْمِرْزِبَانَةِ امْرَأَةِ بَاذَانَ، وَأَنَّهَا سَقَتْهُ خَمْرًا صَرْفًا حَتَّى سَكِرَ فَدَخَلَ فِي فِرَاشِ بَاذَانَ، كَانَ مِنْ رِيشٍ، فَانْقَلَبَ عَلَيْهِ الْفِرَاشُ، وَدَخَلَ فَيْرُوزٌ وَخُرَّزَاذُ بْنُ بُزْرُجٍ، فَأَشَارَتْ إِلَيْهِمَا الْمَرْأَةُ أَنَّهُ فِي الْفِرَاشِ، وَتَنَاوَلَ فَيْرُوزٌ بِرَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَعَصَرَ عُنُقَهُ فَدَقَّهَا، وَطَعَنَهُ ابْنُ ُبُزْرُجٍ بِالْخَنْجَرِ فَشَقَّهُ مِنْ تَرْقُوَتِهِ إِلَى عَانَتِهِ، ثُمَّ احْتَزَّ رَأْسَهُ، وَخَرَجُوا وَأَخْرَجُوا الْمَرْأَةَ مَعَهُمْ، وَمَا أَحَبُّوا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً أُخْرَى، وَفِيهَا قَدُْومُ فَيْرُوزٍ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَّهُ قَالَ لِفَيْرُوزٍ: كَيْفَ قَتَلْتَ الْكَذَّابَ؟ قَالَ: اللهُ قَتَلَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَرَجَعَ فَيْرُوزٌ إِلَى الْيَمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
نعمان بن بزرج کہتے ہیں کہ اسود کذاب نکلا، یہ بنو عنس کا ایک شخص تھا۔ اس کے ساتھ 2 شیطان تھے۔ ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا شقیق تھا۔ یہ دونوں اسے لوگوں کے معاملات میں جو کچھ ہوتا اس سب کی خبر دیا کرتے تھے۔ اسود چلا یہاں تک کہ اس نے ذمار پر قبضہ کر لیا۔ پھر مکمل قصہ بیان کیا کہ اس نے باذان کی بیوی مرزبانہ کے ساتھ کس طرح شادی کی، اور اس نے اسے خالص شراب اتنی پلائی کہ یہ نشے سے مدہوش ہو گیا اور باذان کے بستر میں داخل ہو گیا جو پروں کا تھا، تو بستر اس پر الٹ گیا، فیروز اور خرزاذ بن بزرج داخل ہوئے اور اس عورت نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بستر میں ہے تو فیروز نے اسے سر اور داڑھی سے پکڑا اور اس کی گردن مروڑ کر توڑ دی، اور ابن بزرج نے اسے خنجر مارا اور ہنسلی سے زیرِ ناف تک چیر دیا، پھر اس کا سر کاٹ لیا، اور وہ نکلے اور عورت کو ساتھ لے کر چلے گئے اور ساتھ میں گھر سے پسند کا سامان بھی اٹھا لیا۔ پھر ایک اور قصہ بیان کیا کہ جس میں یہ تھا کہ فیروز امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فیروز! اس کذاب کو کیسے قتل کیا تھا؟ تو جواب دیا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے اسے قتل کیا تھا۔ کہا: ہاں! لیکن مجھے وہ واقعہ سناؤ، تو فیروز نے پورا واقعہ سنایا اور پھر یمن چلے گئے۔