کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتدین کی پہلی قسم (منکرینِ زکوٰۃ وغیرہ) سے قتال کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16726
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هُمْ قَوْمٌ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، مِثْلُ طُلَيْحَةَ وَمُسَيْلَمَةَ وَالْعَنْسِيِّ وَأَصْحَابِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، جیسے طلیحہ، مسیلمہ، (اسود) عنسی اور ان کے ساتھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16726
حدیث نمبر: 16726
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُتِيْتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا، صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے تو میرے ہاتھوں پر دو سونے کے کنگن رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے تو مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک دوں۔ میں نے پھونکا تو وہ چلے گئے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ میرے عہد میں ہی وہ کذاب ہوں گے، ایک صاحبِ صنعاء اور دوسرا صاحبِ یمامہ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16726
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَوَّلُ رَدَّةٍ كَانَتْ فِي الْعَرَبِ مُسَيْلِمَةُ بِالْيَمَامَةِ فِي بَنِي حَنِيفَةَ، وَالْأَسْوَدُ بْنُ كَعْبٍ الْعَنْسِيُّ بِالْيَمَنِ، فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ طُلَيْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ الْأَسَدِيُّ فِي بَنِي أَسَدٍ يَدَّعِي النُّبُوَّةَ يَسْجَعُ لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے عرب میں ارتداد کا شکار یمامہ میں مسیلمہ ہوا، جو بنو حنیفہ سے تھا، اور اسود بن کعب عنسی یمن میں نبی ﷺ کی زندگی ہی میں اور طلیحہ بن خویلد اسدی بنو اسد سے، جو نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اور ان سب کے لیے سجع کلامی کرتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16727
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16728
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الْإِسْلَامِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ غَازِيًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ الْبَقِيعِ خَافَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ سَيْفَ اللهِ، وَنَدَبَ مَعَهُ النَّاسَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسِيرَ فِي ضَاحِيَةِ مُضَرَ فَيُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يَسِيرَ إِلَى الْيَمَامَةِ فَيُقَاتِلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ، فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَاتَلَ طُلَيْحَةَ الْكَذَّابَ الْأَسَدِيَّ فَهَزَمَهُ اللهُ، وَكَانَ قَدِ اتَّبَعَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، فَلَمَّا رَأَى طُلَيْحَةُ كَثْرَةَ انْهِزَامِ أَصْحَابِهِ قَالَ: وَيْلَكُمْ مَا يَهْزِمُكُمْ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَأَنَا أُحَدِّثُكَ مَا يَهْزِمُنَا، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ صَاحِبُهُ قَبْلَهُ، وَإِنَّا لَنَلْقَى قَوْمًا كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَكَانَ طُلَيْحَةُ شَدِيدَ الْبَأْسِ فِي الْقِتَالِ، فَقَتَلَ طُلَيْحَةُ يَوْمَئِذٍ عُكَّاشَةَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ، فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَيْحَةَ تَرَجَّلَ، ثُمَّ أَسْلَمَ ⦗٣٠٥⦘ وَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَرَكِبَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ آمِنًّا حَتَّى مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى عُمْرَتَهُ، وَمَضَى خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى دَنَا مِنْ حَيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِيهِمْ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ، وَكَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكَ الصَّدَقَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَرِيَّةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ قَالَ: وَمَضَى خَالِدٌ قِبَلَ الْيَمَامَةِ حَتَّى قَاتَلَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، فَاسْتَشْهَدَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا كَثِيرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهَزَمَ اللهُ مُسَيْلِمَةَ وَمَنْ مَعَهُ، وَقَتَلَ مُسَيْلِمَةَ يَوْمَئِذٍ مَوْلًى مِنْ مَوَالِي قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: وَحْشِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ منورہ کی طرف سے خوف ہوا، وہ واپس آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور انہیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو، پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں، اور پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھی کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیوں شکست کھا رہے ہو؟“ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: ”میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں اور دوسرا مارا جائے، اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔“ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن سیدنا عکاشہ بن محصن اور سیدنا ابن اقرم رضی اللہ عنہما کو شہید کیا۔ جب حق غالب آ گیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہو گیا اور عمرہ کے لیے مدینہ منورہ میں تلبیہ کہا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا اور مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا، اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کر دیا تھا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ الحدیث۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہو گیا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16728
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 16729
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بُزْرُجٍ، قَالَ: خَرَجَ أَسْوَدٌ الْكَذَّابُ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَنْسٍ، وَكَانَ مَعَهُ شَيْطَانَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: سَحِيقٌ، وَالْآخَرُ: شَقِيقٌ، وَكَانَا يُخْبِرَانِهِ بِكُلِّ شَيْءٍ يَحْدُثُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَسَار الْأَسْوَدُ حَتَّى أَخَذَ ذَمَارَ. فَذَكَرَ قِصَّةً فِي شَأْنِهِ، وَتَزَوُّجِهِ بِالْمِرْزِبَانَةِ امْرَأَةِ بَاذَانَ، وَأَنَّهَا سَقَتْهُ خَمْرًا صَرْفًا حَتَّى سَكِرَ فَدَخَلَ فِي فِرَاشِ بَاذَانَ، كَانَ مِنْ رِيشٍ، فَانْقَلَبَ عَلَيْهِ الْفِرَاشُ، وَدَخَلَ فَيْرُوزٌ وَخُرَّزَاذُ بْنُ بُزْرُجٍ، فَأَشَارَتْ إِلَيْهِمَا الْمَرْأَةُ أَنَّهُ فِي الْفِرَاشِ، وَتَنَاوَلَ فَيْرُوزٌ بِرَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَعَصَرَ عُنُقَهُ فَدَقَّهَا، وَطَعَنَهُ ابْنُ ُبُزْرُجٍ بِالْخَنْجَرِ فَشَقَّهُ مِنْ تَرْقُوَتِهِ إِلَى عَانَتِهِ، ثُمَّ احْتَزَّ رَأْسَهُ، وَخَرَجُوا وَأَخْرَجُوا الْمَرْأَةَ مَعَهُمْ، وَمَا أَحَبُّوا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً أُخْرَى، وَفِيهَا قَدُْومُ فَيْرُوزٍ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَّهُ قَالَ لِفَيْرُوزٍ: كَيْفَ قَتَلْتَ الْكَذَّابَ؟ قَالَ: اللهُ قَتَلَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَرَجَعَ فَيْرُوزٌ إِلَى الْيَمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
نعمان بن بزرج کہتے ہیں کہ اسود کذاب نکلا، یہ بنو عنس کا ایک شخص تھا۔ اس کے ساتھ ٢ شیطان تھے۔ ایک کا نام مسحیق اور دوسرے کا شقیق تھا۔ یہ دونوں اسے لوگوں کے غیبی معاملات کی خبر دیا کرتے تھے۔ اسود چلا اور اس نے اپنی حفاظت کا انتظام بھی کیا۔ پھر مکمل قصہ بیان کیا کہ اس نے باذان کی بیوی مرزبانہ کے ساتھ کس طرح شادی کی، ایک رات اس نے اسے شراب پلائی اتنی کہ یہ نشے سے مدہوش ہو گیا۔ جب وہ باذان کے بستر میں داخل ہو گیا تو اس پر بستر کو پلٹ دیا، فیروز اور خرزاذ بن بزرج داخل ہوئے اور اس عورت نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بستر میں ہے تو فیروز نے اسے سر اور داڑھی سے پکڑا اور خرزاذ نے خنجر نکالا اور حلق سے گدی تک کاٹ دیا اور سر کو پھینکا اور عورت کو ساتھ لے کر چلے گئے اور ساتھ میں گھر سے پسند کا سامان بھی اٹھا لیا۔ پھر لمبا قصہ بیان کیا کہ جس میں یہ تھا کہ فیروز پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فیروز! اس کذاب کو کیسے قتل کیا تھا؟ تو جواب دیا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے اسے قتل کیا تھا۔ کہا: ہاں! لیکن مجھے وہ واقعہ سناؤ، تو فیروز نے پورا واقعہ سنایا اور پھر یمن چلے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16729
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»