السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: من قال: لا تباعة في الجراح والدماء، وما فات من الأموال في قتال أهل البغي باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اہلِ بغاوت سے قتال کے دوران ہونے والے زخموں، خون (جانوں کے ضیاع)، اور تلف ہونے والے اموال کا کوئی تاوان (قصاص یا دیت) لازم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْن الرَّبِيعِ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ يَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَةٍ فَارَقَتْ زَوْجَهَا، وَشَهِدَتْ عَلَى قَوْمِهَا بِالشِّرْكِ، وَلَحِقَتْ بِالْحَرُورِيَّةِ فَتَزَوَّجَتْ فِيهِمْ، ثُمَّ جَاءَتْ تَائِبَةً، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ الزُّهْرِيُّ، وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا بَعْدُ، " فَإِنَّ الْفِتْنَةَ الْأُولَى ثَارَتْ وَفِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَرَأَوْا أَنْ يُهْدَمَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، لَا يُقَامُ فِيهَا حَدٌّ عَلَى أَحَدٍ فِي فَرْجٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا قِصَاصٌ فِي دَمٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا مَالٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ يُوجَدَ شَيْءٌ بِعَيْنِهِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا وَتَحُدَّ مَنْ قَذَفَهَا.زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھیں ہشام رحمہ اللہ نے ایک عورت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی اور پھر مشرک بن کر اپنی قوم میں چلی گئی اور وہاں شادی کرلی، پھر وہ آئی اور توبہ کرلی۔ تو زہری رحمہ اللہ نے ان کو لکھ کر بھیجا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ بیشک جو فتنہ اولیٰ پھیلا تھا، جس وقت میں اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو وہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اس پر حد نہیں لگاتے تھے کہ جس نے قرآن کی تفسیر کر کے فرج کو حلال کیا ہو اور نہ اس پر قصاص لیتے تھے جس نے قرآن سے خون کو حلال سمجھا ہو اور نہ مال جو اس نے قرآن کی تاویل سے حلال سمجھا ہو، مگر بعینہ اسی طرح مل جاتا تو مداوا کرتے اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا جائے اور تہمت کی حد لگا دی جائے۔