حدیث نمبر: 16723
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: " قَدْ هَاجَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى، وَأَدْرَكَتْ، يَعْنِي الْفِتْنَةَ، رِجَالًا ذَوِي عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا، وَبَلَغَنَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ أَنْ يُهْدَرَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، وَلَا يُقَامُ فِيهَا عَلَى رَجُلٍ قَاتِلٍ، فِي تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، قِصَاصٌ فِيمَنْ قَتَلَ، وَلَا حَدٌّ فِي سِبَاءِ امْرَأَةٍ سُبِيَتْ وَلَا يُرَى عَلَيْهَا حَدٌّ، وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا مُلَاعَنَةٌ، وَلَا يُرَى أَنْ يَقْفُوهَا أَحَدٌ إِلَّا جُلِدَ الْحَدَّ، وَيُرَى أَنْ تُرَدَّ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ أَنْ تَعْتَدَّ فَتَقْضِيَ عِدَّتَهَا مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ، وَيُرَى أَنْ يَرِثَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ بھڑکا تو اس فتنے نے بہت سارے اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم کو بھی پالیا اور ہمیں یہ بات پہنچی کہ وہ تو فتنے کو ختم کرنے والے تھے اور جو اس میں تاویلِ قرآن کی وجہ سے لڑتا تھا تو اس پر قصاص نہیں رکھتے تھے، اور جو عورت عادۃً قسمیں اٹھانے والی ہو، اس پر حد بھی نہیں اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان لعان بھی نہیں کرواتے تھے اور جو ایسا الزام لگاتا، اسے کوڑوں کی سزا دیتے اور ان کا خیال تھا کہ دوسرے خاوند سے عدت مکمل کر کے وہ پہلے کے پاس آ سکتی تھی اور وہ پہلے خاوند کی وارث بھی بنے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16723
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لابن شهاب»