حدیث نمبر: 16725
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ فُلَانِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ، وَاضْطَرَبَ الْخَيْلُ، وَأَغَارَ النَّاسُ، قَالَ: فَجَاءَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُونَ أَشْيَاءً، فَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْهَمْ، قَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَجْمَعُ كَلَامَهُ لِي فِي خَمْسِ كَلِمَاتٍ أَوْ سِتٍّ، قَالَ: فَاحْتَفَزْتُ عَلَى إِحْدَى رِجْلَيَّ قُلْتُ: إِنْ فَهِمَ قَبْلَ كَلَامِي وَإِلَّا جَلَسْتُ مِنْ قَرِيبٍ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِخَمْسٍ وَلَا بِسِتٍّ، وَلَكِنَّهَا كَلِمَتَانِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ: هَضْمٌ أَوْ قِصَاصٌ؟ قَالَ: فَعَقَدَ ثَلَاثِينَ وَقَالَ قَالُونُ: أَرَأَيْتُمْ مَا عَدَدْتُمْ فَهُوَ تَحْتَ قَدَْمَيَّ هَاتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیف بن فلاں بن معاویہ عنزی اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے مجھے میرے نانا سے بیان کیا کہ جب جنگِ جمل کا دن تھا تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور مختلف اشیاء کا دعویٰ کرنے لگے، جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور کچھ سمجھ میں نہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو پانچ یا چھ کلمات میں ساری بات بیان کر دے؟ کہتے ہیں: میں اپنے قدموں پر بلند ہوا اور قریب ہو کر بولا: اے امیر المؤمنین! کلام پانچ یا چھ نہیں دو کلمات کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا: یا تو ہضم کر جاؤ یا قصاص دے دو۔ کہتے ہیں: تیس کا عقد بنایا اور «قَالُونُ» نے کہا: جو تم نے عدد بنایا ہے وہ میرے قدموں تلے ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16725
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»