کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک اہلِ بغاوت سے قتال کے دوران ہونے والے زخموں، خون (جانوں کے ضیاع)، اور تلف ہونے والے اموال کا کوئی تاوان (قصاص یا دیت) لازم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: " قَدْ هَاجَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى، وَأَدْرَكَتْ، يَعْنِي الْفِتْنَةَ، رِجَالًا ذَوِي عَدَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا، وَبَلَغَنَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ أَنْ يُهْدَرَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، وَلَا يُقَامُ فِيهَا عَلَى رَجُلٍ قَاتِلٍ، فِي تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، قِصَاصٌ فِيمَنْ قَتَلَ، وَلَا حَدٌّ فِي سِبَاءِ امْرَأَةٍ سُبِيَتْ وَلَا يُرَى عَلَيْهَا حَدٌّ، وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا مُلَاعَنَةٌ، وَلَا يُرَى أَنْ يَقْفُوهَا أَحَدٌ إِلَّا جُلِدَ الْحَدَّ، وَيُرَى أَنْ تُرَدَّ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ أَنْ تَعْتَدَّ فَتَقْضِيَ عِدَّتَهَا مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ، وَيُرَى أَنْ يَرِثَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ بھڑکا تو اس فتنے نے بہت سارے اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم کو بھی پالیا اور ہمیں یہ بات پہنچی کہ وہ فتنے کے معاملات کو کالعدم سمجھتے تھے اور جو اس میں تاویلِ قرآن کی وجہ سے قتل کرتا تو اس پر قصاص نہیں رکھتے تھے، اور جو عورت (فتنے میں) قید کر لی گئی ہو، اس کی قید کے معاملے میں حد نہیں، نہ اس پر حد سمجھتے تھے اور نہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان لعان کرواتے تھے، اور ان کا خیال تھا کہ جو اس پر تہمت لگائے اسے حد کے کوڑے لگائے جائیں، اور ان کا خیال تھا کہ دوسرے خاوند سے عدت مکمل کر کے اسے پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا جائے اور پہلا خاوند اس کا وارث بنے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْن الرَّبِيعِ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ يَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَةٍ فَارَقَتْ زَوْجَهَا، وَشَهِدَتْ عَلَى قَوْمِهَا بِالشِّرْكِ، وَلَحِقَتْ بِالْحَرُورِيَّةِ فَتَزَوَّجَتْ فِيهِمْ، ثُمَّ جَاءَتْ تَائِبَةً، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ الزُّهْرِيُّ، وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا بَعْدُ، " فَإِنَّ الْفِتْنَةَ الْأُولَى ثَارَتْ وَفِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَرَأَوْا أَنْ يُهْدَمَ أَمْرُ الْفِتْنَةِ، لَا يُقَامُ فِيهَا حَدٌّ عَلَى أَحَدٍ فِي فَرْجٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا قِصَاصٌ فِي دَمٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا مَالٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ يُوجَدَ شَيْءٌ بِعَيْنِهِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا وَتَحُدَّ مَنْ قَذَفَهَا.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھیں سلیمان بن ہشام نے ایک عورت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی اور اپنی قوم پر شرک کی گواہی دی اور حروریہ (خوارج) سے جا ملی اور ان میں شادی کرلی، پھر وہ توبہ کرتی ہوئی واپس آئی۔ تو زہری رحمہ اللہ نے ان کو لکھ کر بھیجا، اور میں موجود تھا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ بیشک جو فتنہ اولیٰ پھیلا تھا، جس وقت میں اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو وہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اس پر حد نہیں لگاتے تھے کہ جس نے قرآن کی تفسیر کر کے فرج کو حلال کیا ہو اور نہ اس پر قصاص لیتے تھے جس نے قرآن سے خون کو حلال سمجھا ہو اور نہ مال جو اس نے قرآن کی تاویل سے حلال سمجھا ہو، مگر بعینہ اسی طرح مل جاتا تو مداوا کرتے اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا جائے اور جس نے اس پر تہمت لگائی اس پر حد لگا دی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ فُلَانِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ، وَاضْطَرَبَ الْخَيْلُ، وَأَغَارَ النَّاسُ، قَالَ: فَجَاءَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُونَ أَشْيَاءً، فَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْهَمْ، قَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَجْمَعُ كَلَامَهُ لِي فِي خَمْسِ كَلِمَاتٍ أَوْ سِتٍّ، قَالَ: فَاحْتَفَزْتُ عَلَى إِحْدَى رِجْلَيَّ قُلْتُ: إِنْ فَهِمَ قَبْلَ كَلَامِي وَإِلَّا جَلَسْتُ مِنْ قَرِيبٍ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِخَمْسٍ وَلَا بِسِتٍّ، وَلَكِنَّهَا كَلِمَتَانِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ: هَضْمٌ أَوْ قِصَاصٌ؟ قَالَ: فَعَقَدَ ثَلَاثِينَ وَقَالَ قَالُونُ: أَرَأَيْتُمْ مَا عَدَدْتُمْ فَهُوَ تَحْتَ قَدَْمَيَّ هَاتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیف بن فلاں بن معاویہ عنزی اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے مجھے میرے نانا سے بیان کیا کہ جب جنگِ جمل کا دن تھا، گھوڑے بے قابو ہوئے اور لوگوں نے یلغار کی، تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور مختلف اشیاء کا دعویٰ کرنے لگے، جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور کچھ سمجھ میں نہ آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو پانچ یا چھ کلمات میں ساری بات بیان کر دے؟ کہتے ہیں: میں اپنے ایک پاؤں پر اٹھا (اور دل میں) کہا: اگر وہ میری بات سے پہلے سمجھ گئے (تو ٹھیک) ورنہ میں جلد ہی بیٹھ جاؤں گا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کلام پانچ یا چھ نہیں دو کلمات کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا: یا تو ہضم کر جاؤ یا قصاص دے دو۔ کہتے ہیں: آپ نے (انگلیوں سے) تیس کا عقد بنایا اور فرمایا: جو کچھ تم نے شمار کیا ہے، دیکھو! وہ سب میرے ان دونوں قدموں تلے ہے۔