السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 16722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّدِيرِيُّ، بخُسْرَوْجِرْدَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: مَنْ يَتَعَرَّفُ الْبُغَاةَ يَوْمَ قُتِلَ الْمُشْرِكُونَ؟ يَعْنِي أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " مِنَ الشِّرْكِ فَرُّوا، قَالَ: فَالْمُنَافِقُونَ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُونَ لَا يَذْكُرُونَ اللهَ إِلَّا قَلِيلًا، قَالَ: فَمَا هُمْ؟ قَالَ: قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا فَنُصِرْنَا عَلَيْهِمْ.حافظ ثناء اللہ
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: کون ہے جو دغلوں کو پہچانتا ہے، اس دن جب مشرک یعنی «أَهْلُ النَّهْرِ» ”اہلِ نہر“ قتل کیے گئے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شرک سے دور تھے۔ اس نے کہا: پھر کیا وہ منافق تھے؟ آپ نے فرمایا: منافق اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں، تو اس نے پوچھا: وہ کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ایک باغی قوم جس پر ہمیں فتح ملی۔