حدیث نمبر: 16661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا فَنَقُولُ مَا نَتَكَلَّمُ بِخِلَافِهِ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَ: " كُنَّا نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

عاصم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ہم سلطان کے پاس جاتے ہیں اور اس سے ان باتوں کے علاوہ باتیں کرتے ہیں جو اس کی غیر موجودگی میں کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ہم اسے منافقت سمجھتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16661
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»