السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما يكره من ثناء السلطان وإذا خرج قال غير ذلك باب: حکمران کی (اس کے سامنے) ایسی تعریف کرنے کی کراہت کا بیان کہ جب باہر نکلے تو اس کے برعکس بات کرے۔
حدیث نمبر: 16662
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے برا دو چہروں والا ہے، جو ان کے پاس ایک چہرے اور ان کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ آتا ہے۔“