السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النصيحة لله ولكتابه ورسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم وما على الرعية من إكرام السلطان المقسط باب: اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کرنے، اور رعایا پر انصاف پرور حکمران کا احترام لازم ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ. وَفِي رِوَايَة ِ الْحُرْفِيِّ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ الزُّبَيْدِيُّ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ، يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ، وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، وَمَكَثَ هِشَامٌ لَيَالِيَ، فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ وَقَالَ لَهُ: يَا عِيَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ " أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا "، فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ: يَا هِشَامُ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ، وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ، وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ لِذِي سُلْطَانٍ فَلَا يُكَلِّمْهُ بِهَا عَلَانِيَةً، وَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَلْيَخْلُ بِهِ، فَإِنْ قَبِلَهَا قَبِلَهَا، وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ وَالَّذِي لَهُ " وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ أَنْ يَجْتَرِئَ عَلَى سُلْطَانِ اللهِ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ سُلْطَانُ اللهِ؛ فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللهِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ.جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ دارا کے مالک پر واقع ہو گئے، جب وہ فتح کیا گیا تو ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما آئے اور انھیں بہت سخت باتیں کہیں۔ ہشام رضی اللہ عنہما چند راتوں کے بعد ان سے معذرت کرنے آگئے تو انہوں نے عیاض رضی اللہ عنہ کو کہا: کیا تو نہیں جانتا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اسے ہوگا جو دنیا میں سب سے سخت عذاب لوگوں کو دیتا ہوگا۔“ عیاض رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ہشام! جس سے تو نے سنا ہے، جن کو تو نے دیکھا ہے، جن کے ساتھ تو رہا ہے، ہم ان سے ملے ہیں۔ ہم نے سنا ہے اور ساتھ رہے ہیں۔ اے ہشام! کیا تو نے نبی ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ: ”جس کے پاس امیر کے لیے کوئی نصیحت ہو تو وہ سب لوگوں کے سامنے نہ کہے، ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے جائے۔ اگر امیر قبول کرلے تو ٹھیک، نہ کرے تو اس نے اپنا حق ادا کردیا۔“ اے ہشام! تو بہت جرأت والا ہے، اللہ کے سلطان پر جرأت کر گیا، تجھے ڈر نہیں کہ اللہ کا سلطان تجھے قتل کرے تو تو اللہ کے سلطان کے ہاتھوں مقتول ہو؟