السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النصيحة لله ولكتابه ورسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم وما على الرعية من إكرام السلطان المقسط باب: اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کرنے، اور رعایا پر انصاف پرور حکمران کا احترام لازم ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَيْهِ ثِيَابٌ رَقِيقٌ مُرَجِّلٌ شَعْرَهُ، قَالَ: فَصَلَّى يَوْمًا ثُمَّ دَخَلَ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرَةٍ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ مِرْدَاسٌ أَبُو بِلَالٍ: أَلَا تَرَوْنَ إِلَى أَمِيرِ النَّاسِ وَسَيِّدِهِمْ يَلْبَسُ الرِّقَاقَ، وَيَتَشَبَّهُ بِالْفُسَّاقِ، فَسَمِعَهُ أَبُو بَكْرَةٍ فَقَالَ لِابْنِهِ الْأُصَيْلِعِ: ادْعُ لِي أَبَا بِلَالٍ، فَدَعَاهُ لَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةٍ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكَ لِلْأَمِيرِ آنِفًا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللهِ أَكْرَمَهُ اللهُ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللهِ أَهَانَهُ اللهُ ".زیاد بن کسیب عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیتے تھے اور انہوں نے نرم کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بالوں کو کنگھی کی ہوئی تھی۔ ایک دن انہوں نے نماز پڑھی، پھر داخل ہوئے، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو مرداس ابوبلال نے کہا: کیا تم امیر کو نہیں دیکھتے جو نرم کپڑے پہنتا ہے اور فساق کی مشابہت کرتا ہے؟ جب یہ بات ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے سنی تو انہوں نے اپنے بیٹے اصلع سے کہا: ابوبلال کو بلاؤ، وہ اسے بلا لایا، تو انہوں نے فرمایا: میں نے تمہارے بارے میں یہ بات سنی ہے جو تم نے امیر کے بارے میں کہی ہے، میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”جو امیر کی عزت کرے گا اللہ اس کی عزت کرے گا اور جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے رسوا کرے گا۔“