السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: من جعل الأمر شورى بين المستصلحين له باب: اس امام کے عمل کا بیان جس نے (خلافت کا) معاملہ ان لوگوں کے درمیان شوریٰ (باہمی مشاورت) پر چھوڑ دیا جو اس کے اہل تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَ ⦗٢٦٠⦘ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَائِبًا بِأَرْضِهِ بِالسَّرَاةِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ لَكُمْ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَ النَّاسِ شَقاقًّا فِيكُمْ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيكُمْ شَيْءٌ، فَإِنْ كَانَ شِقَاقٌ فَهُوَ مِنْكُمْ، وَإِنَّ الْأَمْرَ إِلَى سِتَّةٍ: إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ، وَسَعْدٍ، ثُمَّ إِنَّ قَوْمَكُمْ إِنَّمَا يُؤَمِّرُونَ أَحَدَكُمْ أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ، فَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عُثْمَانَ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَلَا تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَكَ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ يَا عَلِيُّ، فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا وَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَقَامُوا يَتَشَاوَرُونَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَعَانِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ لِيُدْخِلَنِي فِي الْأَمْرِ، وَلَمْ يُسَمِّنِي عُمَرُ، وَلَا وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُمْ، عِلْمًا مِنْهُ بِأَنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا قَالَ أَبِي، وَاللهِ لَقَلَّمَا سَمِعْتُهُ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ حَقًّا، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُثْمَانُ دُعَائِي قُلْتُ: أَلَا تَعْقِلُونَ، تُؤَمِّرُونَ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَيُّ؟ فَوَاللهِ لَكَأَنَّمَا أَيْقَظْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ مَرْقَدٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمْهِلُوا، فَإِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ صُهَيْبٌ مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، ثُمَّ أَجْمِعُوا فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَاءَ الْأَجْنَادِ، فَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ، فَمَنْ تَأْمَّرَ عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سراۃ میں اپنی زمین پر تھے، وہاں حاضر نہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر انھیں دیکھا پھر فرمایا: ”میں نے تمہارے لیے لوگوں کے معاملے پر غور کیا ہے، مجھے لوگوں میں تمہارے بارے میں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا، الا یہ کہ تمہارے اپنے اندر کوئی بات ہو، اگر اختلاف ہوا تو تمہاری طرف سے ہوگا۔ امارت کا معاملہ ان چھ کے سپرد ہے: عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام، طلحہ اور سعد۔ تمہاری قوم تم تین میں سے کسی کو ہی امیر بنائے گی۔ اے عثمان! اگر تمہیں لوگوں کے معاملے میں کچھ اختیار ملے تو بنو ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا، اے عبدالرحمن! اگر تمہیں لوگوں کے معاملے میں کچھ اختیار ملے تو اپنے اقرباء کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا، اے علی! اگر تمہیں کچھ اختیار ملے تو بنو ہاشم کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا۔ اٹھو، باہم مشورہ کرو اور اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لو۔“ چنانچہ وہ اٹھ کر مشورہ کرنے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک یا دو مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی اس معاملے میں شریک کر لیں، حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرا نام نہیں لیا تھا، اور واللہ! میں ان کے ساتھ شامل ہونا پسند نہیں کرتا تھا؛ کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان کے معاملے میں وہی ہو گا جو میرے والد نے کہا تھا۔ واللہ! میں نے بہت ہی کم ایسا سنا کہ انھوں نے کسی بات کے لیے لبوں کو حرکت دی ہو اور وہ حق نہ نکلی ہو۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا: ”کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امیر بنا رہے ہو حالانکہ امیر المؤمنین زندہ ہیں؟“ واللہ! گویا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیند سے جگا دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ٹھہرو، اگر مجھے کچھ ہو جائے (یعنی میں فوت ہو جاؤں) تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، جو بنو جدعان کے مولیٰ ہیں، تین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں، پھر تیسرے دن لوگوں کے سربراہان اور لشکروں کے امراء کو جمع کرنا اور اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لینا، اور جو بغیر مشورہ کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔“