السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: من جعل الأمر شورى بين المستصلحين له باب: اس امام کے عمل کا بیان جس نے (خلافت کا) معاملہ ان لوگوں کے درمیان شوریٰ (باہمی مشاورت) پر چھوڑ دیا جو اس کے اہل تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فِي قِصَّةِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَقَالَ: لِيَشْهَدْكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، كَالتَّعْزِيَةِ لَهُ، وَقَالَ: فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ، وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمُ مَا أُمِّرَ، فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، أَنْ يَعْلَمَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ يَعْفِي عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الْأَمْصَارِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ، وَجُبَاةُ الْأَمْوَالِ، وَغَيْظُ الْعَدُوِّ، وَأَنْ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلَهُمْ عَنْ رِضَاهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ، وَمَادَّةُ الْإِسْلَامِ، أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ فَيُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ، أَنْ يُوفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ. فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دَفْنِهِ، قَالَ: فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ وَرَجَعُوا، اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، قَالَ الزُّبَيْرُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ طَلْحَةُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمَا يَبْرَأُ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلَهُ إِلَيْهِ؟ وَاللهِ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ، وَلَيَحْرِصَنَّ عَلَى صَلَاحِ الْأُمَّةِ، قَالَ: فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ، وَاللهُ عَلَيَّ أَنْ لَا آلُو عَنْ أَفْضَلِكُمْ؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ مِنْ قَرَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقِدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَاللهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ، وَلَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ، ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ، فَبَايَعَهُ وَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.عمرو بن میمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المؤمنین! وصیت کر دیجیے، خلیفہ نامزد کر دیں۔“ تو فرمایا: ”ان لوگوں یا اس جماعت سے بڑھ کر اس معاملے کا حق دار کوئی نہیں جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت راضی تھے“ اور علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اور فرمایا: ”عبداللہ بن عمر تمہارے پاس حاضر رہیں گے، لیکن اس معاملے میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا“، گویا یہ ان کی تسلی کے لیے تھا۔ اور فرمایا: ”اگر امارت سعد رضی اللہ عنہ کو مل جائے تو وہی (اس کے اہل) ہیں، ورنہ تم میں سے جو بھی امیر بنایا جائے وہ ان سے مدد لیتا رہے؛ کیونکہ میں نے انہیں کسی عجز یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔“ اور کہا: ”جو بھی میرے بعد خلیفہ بنے میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ پہلے مہاجرین کے حق کو پہچانے، ان کی عزت اور مقام و مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو ان سے پہلے (مدینہ کے) گھر اور ایمان میں ٹھکانا بنائے ہوئے تھے، کہ ان کے محسن سے قبول کرے اور خطاکار سے درگزر کرے اور تمام شہروں والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اسلام کے مددگار، مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضامندی سے لیا جائے اور دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اصل عرب ہیں، اسلام کا مادہ ہیں۔ ان کے معمولی مالوں سے لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دیا جائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ (والوں) کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرے، ان کی حفاظت کے لیے لڑے اور کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دے۔“ جب فوت ہو گئے تو ہم انہیں لے کر نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد جب لوگ واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اپنا معاملہ اپنے میں سے تین کے سپرد کر دو۔“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ علی کے سپرد کیا“، طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ عثمان کے سپرد کیا“ اور سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمن کے سپرد کیا۔“ تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ (علی اور عثمان رضی اللہ عنہما سے) کہنے لگے: ”تم دونوں میں سے کون اس معاملے سے دستبردار ہوتا ہے تاکہ ہم یہ اس کے سپرد کر دیں؟ اللہ اور اسلام اس پر گواہ ہیں کہ وہ اپنے نزدیک ان میں سے سب سے افضل کو دیکھے گا اور امت کی بھلائی کا حریص ہو گا۔“ تو دونوں شیخ خاموش رہے، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم یہ معاملہ میرے سپرد کرتے ہو، اور اللہ مجھ پر گواہ ہے کہ میں تم میں سے افضل (کو چننے) میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ”آپ کو رسول اللہ ﷺ سے قرابت اور اسلام میں سبقت حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں، اللہ آپ پر گواہ ہے، اگر میں آپ کو امیر بنا دوں تو آپ ضرور انصاف کریں گے، اور اگر میں عثمان کو امیر بنا دوں تو آپ ضرور سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔“ پھر دوسرے کے ساتھ علیحدگی میں بھی یہی بات کہی۔ جب عہد لے لیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کہا: ”اے عثمان! اپنا ہاتھ اٹھاؤ“، پھر خود بیعت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کر لی اور گھر والے بھی اندر آئے، انہوں نے بھی بیعت کر لی۔