السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في تنبيه الإمام على من يراه أهلا للخلافة بعده باب: امام کا اس شخص کی طرف اشارہ (تنبیہ) کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان جسے وہ اپنے بعد خلافت کا اہل سمجھتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ، لَهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ⦗٢٦١⦘ أَصَلَّى النَّاسُ؟ " فَقُلْتُ: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " ضَعُوا مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، قَالَتْ: فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ " قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ " قُلْتُ: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ " قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، والنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ بِأَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، قَالَ: " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ "، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ، بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي بِهِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَمَا أَنْكَرَ مِنْه شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا: آپ مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بتائیے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ جب نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”برتن میں پانی رکھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پانی رکھا گیا، آپ ﷺ نے غسل فرمایا تاکہ کچھ افاقہ ہو جائے لیکن آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ بتایا گیا: آپ کا انتظار کر رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے برتن میں پانی رکھنے کا فرمایا اور غسل فرمایا لیکن پھر غشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا تو پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ عرض کیا گیا: لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہیں، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ نماز پڑھا دیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام ملا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں؛ کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ زیادہ حق دار ہیں، چنانچہ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نمازیں پڑھاتے رہے۔ ایک دن آپ ﷺ نے طبیعت میں بہتری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے، جن میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کے وقت مسجد میں آئے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ ﷺ تشریف لائے ہیں تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اور فرمایا: ”مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔“ تو آپ ﷺ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں جو بیان کیا ہے وہ مجھے سناؤ، تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے سب باتوں کی تصدیق کی اور فرمایا: کیا انہوں نے اس دوسرے شخص کا نام نہیں بتایا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔