السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: من جعل الأمر شورى بين المستصلحين له باب: اس امام کے عمل کا بیان جس نے (خلافت کا) معاملہ ان لوگوں کے درمیان شوریٰ (باہمی مشاورت) پر چھوڑ دیا جو اس کے اہل تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِحُضُورِ أَجْلِي، وَإِنَّ أُنَاسًا يَأْمُرُونَ بِأَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضِيعَ دِينَهُ وَخِلَافَتَهُ وَمَا بَعَثَ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالشُّورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنْ بَايَعْتُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، وَإِنَّ نَاسًا سَيَطْعَنُونَ فِي ذَلِكَ، فَإِنْ فَعَلُوا فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللهِ الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ، أَنَا جَاهَدْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، فَطَعَنَ بِأُصْبُعِهِ فِي صَدْرِي، أَوْ فِي جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ يَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضَاءٍ لَا يَخْتَلِفُ فِيهِ أَحَدٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ، أَوْ لَمْ يَقْرَأِ الْقُرْآنَ "، وَإِنِّي أُشْهِدُ اللهَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ، فَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، وَيَرْفَعُوا إِلَيْنَا مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، قَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُمَا مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا: الثُّومُ وَالْبَصَلُ. قَالَ: خَطَبَ لَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَاتَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ⦗٢٥٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَغَيْرِهِ.معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک مرغ نے مجھے ایک یا دو ٹھونگیں ماری ہیں، اور میں اسے اپنی موت کے قریب آنے کی علامت ہی سمجھتا ہوں۔ کچھ لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں (کسی کو) خلیفہ نامزد کر دوں، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین، اپنی خلافت اور اس چیز کو جسے اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا ہے، ہرگز ضائع نہیں فرمائیں گے۔ اگر میرا وقت جلد آ جائے تو (خلافت کا معاملہ) ان چھ اشخاص کے باہمی مشورے سے طے ہو گا جن سے نبی کریم ﷺ رضا مندی کی حالت میں فوت ہوئے تھے۔ تم جس کی بھی بیعت کرو گے، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا، اور بہت سے لوگ اس میں طعنہ زنی بھی کریں گے، اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہیں۔ میں نے اپنے اسی ہاتھ سے اسلام کی خاطر ان سے جہاد کیا ہے، اور میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز جو میرے نزدیک «الْكَلَالَةُ» ”کلالہ“ سے بڑھ کر اہم ہو، نہیں چھوڑ رہا اور نبی کریم ﷺ نے مجھ پر کسی معاملے میں اتنی سختی نہیں کی جتنی اس کے بارے میں کی، آپ ﷺ نے میرے سینے پر انگلی مار کر فرمایا تھا: ”اے عمر! تجھے «آیَةُ الصَّيْفِ» ”گرمی کے موسم والی آیت“ جو ﴿سورة النساء: 176﴾ کی آخری آیت ہے، کافی ہے“ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے میں کوئی اختلاف نہیں رہے گا، اور میں مختلف علاقوں کے امیروں پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں صرف اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو دین اور سنتِ رسول ﷺ سکھائیں اور جو مشکل ہو ہمیں بتائیں، اور اے لوگو! تم دو درختوں (پودوں) سے کھاتے ہو اور میں انہیں خبیث سمجھتا ہوں۔ میں نے عہدِ رسالت میں دیکھا کہ اگر کسی شخص سے ان کی بو آتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان کو کھائے وہ انہیں پکا کر (ان کی بو) ختم کر دے، اور وہ لہسن اور پیاز ہیں۔“ معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ خطبہ آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن دیا تھا اور بدھ کے دن آپ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تھے جب ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔