السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الأئمة من قريش باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ، ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا ⦗٢٤٧⦘ صَاحِبُكُمْ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ انْطَلَقُوا، فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فبايعه، ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَارِيَّهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ..سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: اے مہاجرین کی جماعت! جب بھی نبی ﷺ نے کوئی عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا اب امیر ایک ہم میں سے ایک تم میں سے ہوگا۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: نبی ﷺ خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم سب جس طرح رسول اللہ ﷺ کی مدد کیا کرتے تھے اس کی بھی مدد کریں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اے انصاریو! تمہارے خطیبوں کو ثابت قدم رکھے، اگر تم دوسرا معاملہ ہمارے ساتھ کرو تو ہم صلح کرلیں اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اس کی بیعت کرلو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آکر بیٹھ گئے، دیکھا قوم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ انہیں بلایا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ہیں، میرا ارادہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی باگ دوڑ تمہیں تھماؤں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ نظر نہ آئے۔ پوچھا تو ان کو بلایا گیا اور انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی بات کہی اور دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔