❮
❯
حدیث نمبر: 16539
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْإِسْفِرَائِينِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَكَتَبْتُهُ لَهُ فِي رُقْعَةٍ وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ يَسْوِي بَدَنَةً، فَقُلْتُ: يَسْوِي بَدَنَةً؟ بَلْ هُوَ يَسْوِي بَدْرَةً.
حافظ ثناء اللہ

سابقہ روایت، «تَقَدَّمَ قَبْلَهُ»۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے پاس مسلم بن حجاج آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے ان کے لیے ایک پرچے پر لکھا اور انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث ایک قربانی کے اونٹ (بدنہ) کے برابر ہے۔ میں نے کہا: بدنہ کے برابر؟ بلکہ یہ تو ایک بدرہ (درہموں سے بھری تھیلی) کے برابر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16539