السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الأئمة من قريش باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ، قَدْ بَلَغَكُمْ ذَلِكَ أَوْ سَمِعْتُمُوهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ، وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: ٤٦]، فَنَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، إِخْوَانُنَا فِي الدِّينِ وَأَنْصَارُنَا عَلَيْهِ. وَفِي خُطْبَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ سَمِعَهُ مِنْكُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْوُلَاةُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ "؟ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنَ الْأَنْصَارِ: بَلَى، الْآنَ ذَكَرْنَا، قَالَ: فَإِنَّا لَا نَطْلُبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا، فَلَا تَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الْأَهْوَاءُ، فَلَيْسَ بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ، فَأَنَّي تُصْرَفُونَ.محمد بن اسحاق بن یسار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا: یہ امر (امارت) قریش میں رہے گا جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں، اور تمہیں یہ بات رسول اللہ ﷺ سے پہنچی ہے یا تم نے سنی ہے، ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [سورة الأنفال: 46] ”آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ ہم امراء ہیں تم وزراء، تم ہمارے دینی بھائی ہو اور دین پر ہمارے مددگار ہو۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا: اے انصاریو! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے، یا تم میں سے جس نے سنا، رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ ”حکمران قریش سے ہوں گے، جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں“؟ تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اب ہمیں یاد آ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس امارت کو اسی (فرمان) کی وجہ سے طلب کرتے ہیں، لہٰذا خواہشات تمہیں بہکا نہ دیں، کیونکہ حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں، تو تم کہاں پھیرے جا رہے ہو؟