❮
❯
حدیث نمبر: 16536
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالسُّنْحِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَن كَانَ يَعْبُدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللهَ حَيُّ لَا يَمُوتُ، وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: ٣٠]، وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ} [آل عمران: ١٤٤] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَذَهَبَ عُمَرُ ⦗٢٤٦⦘ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ بِذَاكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ كَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ فَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ، وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللهِ لَا نَفْعَلُ أَبَدًا، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا، فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَايِعُكَ، أَنْتَ خَيْرُنَا وَسَيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (مقام) سنح میں تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”واللہ! نبی ﷺ فوت نہیں ہوئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرے دل میں یہی بات آتی تھی، اور اللہ عزوجل آپ ﷺ کو ضرور اٹھائے گا اور آپ ﷺ کچھ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی ﷺ (کے چہرے) سے کپڑا ہٹایا اور آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ رہے اور موت میں بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ آپ کو کبھی دو موتوں کا ذائقہ نہیں چکھائے گا۔“ پھر باہر نکلے اور فرمایا: ”اے قسم کھانے والے! ٹھہر جا۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی“ اور فرمایا: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] اور فرمایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ﴾ [سورة آل عمران: 144] لوگوں نے ہچکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔ پھر انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہمارا اور ایک تمہارا ہو گا، تو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چپ کرا دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”اللہ کی قسم! میرا اس سے صرف یہ ارادہ تھا کہ میں نے ایک گفتگو تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، مجھے ڈر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس تک نہ پہنچ سکیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی اور بہت بلیغ بات کی، فرمایا: ”امیر ہم ہیں اور وزیر تم ہو۔“ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واللہ! ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے، ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ امراء ہم ہیں اور وزراء تم؛ یہ (قریش) گھر کے لحاظ سے اوسط العرب اور حسب کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہیں، اس لیے عمر بن خطاب یا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ ہم آپ کی بیعت کریں گے، آپ ہم میں سب سے بہتر، ہمارے سردار اور رسول اللہ ﷺ کو (ہم میں) سب سے زیادہ محبوب ہیں“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ کو پکڑا اور آپ کی بیعت کر لی اور باقی تمام لوگوں نے بھی بیعت کر لی۔ ایک شخص کہنے لگا: سعد بن عبادہ کو تم نے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16536
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»