❮
❯
حدیث نمبر: 16535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَن مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمُ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ، فقُلْتُ: وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ. فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَن يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ. قَالَ: فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُدَارِئُ عَنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ ⦗٢٤٥⦘ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ نَعْرِفَ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْرًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اللهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ لِي نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنْ أَنْ يَقَعَ اخْتِلَافٌ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ وفات پا گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار (ہماری) مخالفت کر رہے ہیں اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما اور جو ان کے ساتھ تھے، وہ بھی ہم سے الگ رہے۔ مہاجرین جمع ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے، انہوں نے وہ بات بتائی جس پر لوگ متفق ہو گئے تھے اور پوچھا: اے مہاجرین! کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس نہ جاؤ، اپنے معاملے کا فیصلہ (خود ہی) کر لو۔ میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے۔ ہم گئے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے تو وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: انہیں کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: انہیں بخار ہے۔ ہم تھوڑی ہی دیر بیٹھے تھے کہ ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا، اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی جیسی اس کی شان کے لائق ہے، پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین! ہم میں سے ایک چھوٹی سی جماعت ہو، اور تمہاری قوم کے کچھ لوگ آہستہ آہستہ آ گھسے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری جڑ سے کاٹ دیں اور ہمیں امارت سے الگ کر دیں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا، میں نے ایک تقریر تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، میں چاہتا تھا کہ اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کروں، اور میں ان کے معاملے میں اپنی کچھ تیزی سے بچتا تھا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ مجھے انہیں ناراض کرنا اچھا نہ لگا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم! میری تیار کردہ تقریر میں جو بات بھی مجھے پسند تھی انہوں نے فی البدیہہ ویسی ہی یا اس سے بہتر بات کہہ دی، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا: تم نے جو بھی بھلائیاں اپنے متعلق بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو، لیکن یہ امارت قریش کے اسی قبیلے ہی کے لیے پہچانی جائے گی؛ یہ نسب، گھرانے اور مرتبے کے لحاظ سے تمام عرب میں اوسط (بہترین) ہیں، اور میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں میں سے ایک پر راضی ہوں، تم جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو، پھر انہوں نے میرا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے تھے۔ ان کی گفتگو میں سے مجھے اس کے سوا کوئی بات ناگوار نہ گزری۔ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ مجھے آگے کر کے میری گردن مار دی جاتی، بشرطیکہ یہ مجھے کسی گناہ کے قریب نہ کرے، تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں، الا یہ کہ موت کے وقت میرا نفس مجھے کوئی ایسی بات سجھا دے جو اب میں (اپنے اندر) نہیں پاتا۔ پھر انصار کا ایک کہنے والا کہنے لگا: میں اس کا وہ تنا ہوں جس سے (خارش زدہ اونٹ) رگڑ کر شفا پاتے ہیں اور اس کا وہ کھجور کا درخت ہوں جسے سہارا دیا گیا ہو (یعنی میری رائے سے مسئلے حل ہوتے ہیں)؛ اے قریشیو! ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ (یہ سن کر) شور بہت بڑھ گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف پیدا ہو جانے کا ڈر ہوا تو میں نے کہا: اے ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کر لی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور اس کے بعد انصار نے بیعت کر لی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»