السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الأئمة من قريش باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَن مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمُ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ، فقُلْتُ: وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ. فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَن يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ. قَالَ: فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُدَارِئُ عَنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ ⦗٢٤٥⦘ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ نَعْرِفَ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْرًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اللهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ لِي نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنْ أَنْ يَقَعَ اخْتِلَافٌ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ وفات پا گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار (ہماری) مخالفت کر رہے ہیں اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور ہماری طرف سے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما اور جو ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی مخالفت کی۔ مہاجرین جمع ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے اور پوچھا: اے مہاجرین! کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: انصاری بھائیوں کے پاس۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس نہ جاؤ، اپنے معاملے کا فیصلہ (خود ہی) کر لو۔ میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ضرور جائیں گے۔ ہم گئے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے تو وہاں ایک شخص کو چادر اوڑھائی جا رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: اسے سردار بنایا جا رہا ہے۔ ہم تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے کہ ان کا ایک خطیب آیا، اس نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار اور اسلام کے محافظ ہیں اور تم مہاجرین کی ایک جماعت ہم میں سے ہو، تمہاری قوم کا نظام ہم نے چلایا، وہ ہمیں رسوا کرنا اور ہم سے امارت چھیننا چاہتے ہیں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں کچھ بات کروں لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، وہ مجھ سے زیادہ قادرِ کلام آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے بے مثال انداز میں ہر وہ بات کہی جو میں کہنا چاہتا تھا۔ پھر فرمایا: تم نے جو بھی بھلائیاں اپنے متعلق بیان کی ہیں وہ تم میں موجود ہیں، لیکن امارت کے حق دار صرف قریش ہیں؛ کیونکہ یہ نسب اور گھرانے کے لحاظ سے تمام عرب میں اوسط (بہترین) ہیں، اور میں (تمہارے سامنے) یہ دو آدمی پیش کرتا ہوں تم جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو، پھر انہوں نے میرا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ اگر اس وقت مجھے قتل کر دیا جاتا تو یہ مجھ پر اس سے زیادہ آسان تھا کہ میں ایسی قوم کا امیر بنایا جاؤں جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔ ایک انصاری کہنے لگا: مجھے تمہاری رائے پسند ہے اور میں تمہیں بکھرنے سے بچاتا ہوں؛ اے قریشیو! ایک امیر تمہارا ہو اور ایک امیر ہمارا ہو۔ (یہ سن کر) لوگوں میں شور برپا ہو گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کر لی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور اس کے بعد انصار نے بیعت کر لی۔