السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَصْدَقُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: ٢٣] ".ہمیں شعبہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے (یعنی عمرو بن دینار نے) ایک شخص کو سنا، اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: امیر المؤمنین عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اور دو رضاعتیں حرمت کو ثابت نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی کتاب امیر المؤمنین سے زیادہ سچی ہے، پھر انہوں نے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ﴾ تلاوت کی یہاں تک کہ اس کو یہاں تک پہنچایا: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ [سورة النساء: 23] ”حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں۔“