السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا أَبُو النَّضْرِ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَطَاءٌ وَرَجُلًا مَعِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تُرْضِعُ الصَّبِيَّ فِي الْمَهْدِ أَوِ الْجَارِيَةَ رَضْعَةً وَاحِدَةً قَالَ: " هِيَ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ: قُلْتُ فَإِنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمَانِ أَنَّهُ " لَا يُحَرِّمُهَا رَضْعَتَانِ وَلَا ثَلَاثٌ " قَالَ: " كِتَابُ اللهِ أَصْدَقُ مِنْ قَوْلِهِمَا وَقَرَأَ آيَةَ الرَّضَاعَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہ مجھے اور ایک شخص کو عطاء نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان سے ایک عورت کے بارے میں سوال کیا، وہ گود میں بچے کو یا بچی کو ایک مرتبہ دودھ پلاتی ہے، انہوں نے فرمایا: وہ اس پر حرام ہے۔ میں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا خیال کرتے ہیں کہ اس کو ایک رضاعت، دو رضاعتیں یا تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی کتاب ان دونوں کے قول سے زیادہ سچی ہے، اور آپ نے آیتِ رضاعت [سورة النساء: 23] کی تلاوت فرمائی۔