السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15642
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعِ فَقَالَ: " لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ الْأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ "، فَقُلْتُ: إِنَّ ⦗٧٥٤⦘ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: " لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ وَلَا الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَضَاءُ اللهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَكَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رضاعت کے معاملے میں کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں جانتا مگر بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعی یعنی دودھ شریک بہن کو حرام کیا ہے۔ میں نے کہا: بیشک امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رضاعت اور نہ ہی دو رضاعتیں اور نہ ایک گھونٹ اور نہ دو گھونٹ رضاعت کو ثابت کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کا فیصلہ تیرے فیصلے سے بہتر ہے اور امیر المؤمنین کا فیصلہ تیرے ساتھ ہے۔