کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15641
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَعِيدٌ: شَكَكْنَا هُوَ النَّخَعِيُّ أَوِ التَّيْمِيُّ قَالَ مَطَرٌ هُوَ النَّخَعِيُّ فِي الرَّضَاعِ وَكَتَبَ إِلَيْنَا، أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَ، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ "، وَقَالَ وكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيَّ حَدَّثَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَلَا الْخَطْفَتَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید کی طرف (خط) لکھا۔ سعید کہتے ہیں: ہم نے اس میں شک کیا کہ وہ (یعنی ابراہیم) نخعی ہیں یا تیمی؟ مطر کہتے ہیں: وہ نخعی ہیں۔ (ہم نے لکھا) رضاعت کے بارے میں اور انہوں نے ہماری طرف لکھا کہ شریح نے حدیث بیان کی کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ وہ حرمت کو ثابت کرتی ہے، اور کہا اور ان کی کتاب میں تھا: بیشک ابوالشعثاء محاربی نے حدیث بیان کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نہیں حرام کرتے ایک مرتبہ جلدی سے ماں کا دودھ پینا یا دو مرتبہ جلدی سے دودھ پینا۔“
حدیث نمبر: 15642
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعِ فَقَالَ: " لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ الْأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ "، فَقُلْتُ: إِنَّ ⦗٧٥٤⦘ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: " لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ وَلَا الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَضَاءُ اللهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رضاعت کے معاملے میں کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں جانتا مگر بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعی یعنی دودھ شریک بہن کو حرام کیا ہے۔ میں نے کہا: بیشک امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رضاعت اور نہ ہی دو رضاعتیں اور نہ ایک گھونٹ اور نہ دو گھونٹ رضاعت کو ثابت کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کا فیصلہ تیرے فیصلے سے بہتر ہے اور امیر المؤمنین کا فیصلہ تیرے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 15643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَصْدَقُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: ٢٣] ".
حافظ ثناء اللہ
ہمیں شعبہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے (یعنی عمرو بن دینار نے) ایک شخص کو سنا، اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: امیر المؤمنین عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اور دو رضاعتیں حرمت کو ثابت نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی کتاب امیر المؤمنین سے زیادہ سچی ہے، پھر انہوں نے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ﴾ تلاوت کی یہاں تک کہ اس کو یہاں تک پہنچایا: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ [سورة النساء: 23] ”حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں۔“
حدیث نمبر: 15644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا أَبُو النَّضْرِ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَطَاءٌ وَرَجُلًا مَعِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تُرْضِعُ الصَّبِيَّ فِي الْمَهْدِ أَوِ الْجَارِيَةَ رَضْعَةً وَاحِدَةً قَالَ: " هِيَ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ: قُلْتُ فَإِنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمَانِ أَنَّهُ " لَا يُحَرِّمُهَا رَضْعَتَانِ وَلَا ثَلَاثٌ " قَالَ: " كِتَابُ اللهِ أَصْدَقُ مِنْ قَوْلِهِمَا وَقَرَأَ آيَةَ الرَّضَاعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہ مجھے اور ایک شخص کو عطاء نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان سے ایک عورت کے بارے میں سوال کیا، وہ گود میں بچے کو یا بچی کو ایک مرتبہ دودھ پلاتی ہے، انہوں نے فرمایا: وہ اس پر حرام ہے۔ میں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا خیال کرتے ہیں کہ اس کو ایک رضاعت، دو رضاعتیں یا تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی کتاب ان دونوں کے قول سے زیادہ سچی ہے، اور آپ نے آیتِ رضاعت [سورة النساء: 23] کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 15645
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ: " قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ يُحَرِّمُ فِي الْمَهْدِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ: " لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ گود میں حرمت کو ثابت کر دیتی ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دو مکمل سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔ اسی طرح اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔
حدیث نمبر: 15646
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا وُهَيْبٌ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمَصَّةِ وَالْمَصَّتَيْنِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةَ وَلَا الْمَصَّتَيْنِ وَلَا تُحَرِّمُ إِلَّا عَشْرًا فَصَاعِدًا " قَالَ: فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّضْعَةِ وَالرَّضْعَتَيْنِ فَقَالَ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ فِيهَا كَمَا قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَا يَقُولَانِ؟ قَالَ: كَانَا يَقُولَانِ " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا تُحَرِّمُ دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ ⦗٧٥٥⦘ أَصَحُّ فِي مَذْهَبِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرِوَايَةُ عُرْوَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَذْهَبِهِ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے ایک بار چوسنے اور دو بار چوسنے کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ایک بار چوسنا اور دو بار چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا مگر دس گھونٹ یا اس سے زیادہ۔
فرماتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے ان سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں نہیں کہتا مگر اسی طرح جس طرح ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیسے؟ وہ کہتے ہیں: فرمایا: وہ دونوں کہتے ہیں: ایک بار چوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھونٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
فرماتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے ان سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں نہیں کہتا مگر اسی طرح جس طرح ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیسے؟ وہ کہتے ہیں: فرمایا: وہ دونوں کہتے ہیں: ایک بار چوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھونٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔