السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش بالوطء بملك اليمين، والنكاح باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 15375
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُونَهُنَّ يَخْرُجْنَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِكُوهُنَّ ".حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت ابی عبید رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے تعلقات قائم کرتے ہیں، پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ چلی جائیں، پھر میرے پاس کوئی لونڈی آتی ہے جس کا آقا اس سے تعلقات کا اعتراف کرتا ہے، میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، تم لونڈیوں کو اس کے بعد چھوڑ دو یا روکے رکھو۔