السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش بالوطء بملك اليمين، والنكاح باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 15374
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَطُوفُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَهُنَّ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا وَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا " قَالَ: وَأنا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِرْسَالِ الْوَلَائِدِ يُوطَيْنَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے صحبت کرتے ہیں اور عزل کرتے ہیں؟ پھر کوئی لونڈی آتی ہے تو اس کا آقا اس سے جماع کا اعتراف کرتا ہے تو میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، اس کے بعد عزل کرو یا چھوڑ دو۔