السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش بالوطء بملك اليمين، والنكاح باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَهَلْ خَالَفَكَ فِي هَذَا غَيْرُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْضُ الْمَشْرِقِيِّينَ، قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُهُمْ؟ قَالَ: كَانَتْ حُجَّتُهُمْ أَنْ قَالُوا: انْتَفَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُكَ عَلَيْهِمْ؟ يَعْنِي: جَوَابُكَ قَالَ: أَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَنْكَرَ حَمْلَ جَارِيَةٍ لَهُ أَقَرَّتْ بِالْمَكْرُوهِ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا أَنْكَرَا إِنْ كَانَا فِعْلًا وَلَدَ جَارِيَتَيْنِ عُرْفًا أَنْ لَيْسَ مِنْهُمَا فَحَلَالٌ لَهُمَا وَكَذَلِكَ لِزَوْجِ الْحُرَّةِ إِذَا عَلِمَ أَنَّهَا حَبِلَتْ مِنَ الزِّنَا أَنْ يَدْفَعَ وَلَدَهَا وَلَا يَلْحَقْ بِنَسَبِهِ مَنْ لَيْسَ مِنْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَكَلَّمَ عَلَيْهِ بِمَا يَطُولُ ذِكْرُهُ هَاهُنَا.ربیع کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کی مخالفت اس مسئلہ میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی کرتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بعض مشرقی لوگ۔ میں نے پوچھا: ان کے دلائل کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے دلائل یہ ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی لونڈی کے حمل کا انکار کیا، جب اس نے لڑائی کا اعتراف کیا تو سیدنا زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر دونوں نے پہچان لیا کہ بیٹا ان سے نہیں ہے تو انکار کرنا ان کے لیے جائز ہے اور اسی طرح آزاد عورت کا خاوند جب یہ جان لے کہ یہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہوئی ہے تو وہ بچے کو اپنے نسب میں داخل نہیں کرتا کہ اس بچے کو عورت کے ساتھ ملا دیتا ہے۔