السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش ما لم ينفه رب الفراش باللعان باب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللهِ ثم وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللهِ قََالَ: فَطَبَنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي يُقَالُ لَهُ بِرْجِيسَ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: هُوَ ابْنُ بِرْجِيسَ فَرُفِعَتْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَسَأَلَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ " قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ يُوحَنَّهْ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَهْدِيٌّ فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.حسن بن سعد، رباح سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی رومی لونڈی سے میری شادی کر دی، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے سیاہ بچہ جنم دیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ پھر میں اس پر واقع ہوا، پھر اس نے میرے جیسا سیاہ بچہ جنم دیا تو میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام کا اس سے تعلق قائم ہو گیا، جس کا نام یوحنس تھا، اس نے فارسی زبان میں بات کی تو اس نے چھپکلی جیسا بچہ جنم دیا، میں نے اس سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ یوحنس کا بیٹا ہے۔ تو معاملہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، جب لونڈی سے سوال ہوا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا تم دونوں راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی مانند فیصلہ کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے ”بچے کا فیصلہ صاحبِ فراش (جس کے بستر پر پیدا ہو) کے لیے کیا ہے۔“ مہدی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلام اور لونڈی کو کوڑے مارے گئے۔
(ب) روذباری کی روایت میں یوحنہ ہے، فرماتے ہیں: میرے گمان میں مہدی نے کہا کہ جب ان دونوں (غلام اور لونڈی) سے سوال ہوا تو انہوں نے اعتراف کیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے اور وہ دونوں غلام تھے۔