السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش ما لم ينفه رب الفراش باللعان باب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 15330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْفِرَاشِ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بزرگ کی جانب پیغام بھیجا، وہ ہمارے گھر میں رہتے تھے تو میں انہیں لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں پوچھا اور کہا: بستر کسی کا اور نطفہ کسی کا؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ ”بستر والے کے لیے“ کیا ہے۔