❮
❯
حدیث نمبر: 15330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْفِرَاشِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بزرگ کی جانب پیغام بھیجا، وہ ہمارے گھر میں رہتے تھے تو میں انہیں لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بستر تو فلاں کا ہے اور نطفہ فلاں کا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ ”بستر والے کے لیے“ کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15330
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»