السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش ما لم ينفه رب الفراش باللعان باب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 15332
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَبَاحٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ، هُوَ ابْنُكَ تَرِثُهُ وَيَرِثُكَ، قُلْتُ سُبْحَانَ اللهِ، قَالَ: هُوَ ذَاكَ فَكُنْتُ أُنَيِّمُهُ بَيْنَهُمَا هَذَانِ أَسْوَدَانِ وَهَذَا أَبْيَضُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب، رباح سے اس کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بچے کا فیصلہ بستر والے کے لیے دیا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ وہ تیرا بیٹا ہے، تو اس کا وارث ہے، وہ تیرا وارث ہے۔“ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ میں اس کی نسبت ان دونوں کے درمیان کرتا ہوں، یہ دونوں سیاہ ہیں اور یہ سفید۔