السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الزوج يقذف امرأته فيخرج من موجب قذفه بأن يأتي بأربعة شهود يشهدون عليها الزنا أو يلتعن باب: اس بیان میں کہ شوہر اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو وہ اس تہمت کے وبال سے اس طرح نکلے گا کہ یا تو وہ ایسے چار گواہ لائے جو اس پر زنا کی گواہی دیں یا پھر وہ لعان کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيَّ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: ٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ فَلَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا مُتَفَخِّذُهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُحَرِّكَهُ وَلَا أَهِيجَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللهِ لَا آتِي بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدِكُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَلُمْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ وَاللهِ مَا تَزَوَّجَ فِينَا قَطُّ إِلَّا عَذْرَاءَ وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ، قَالَ سَعْدٌ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّهَا لَحَقٌّ وَأَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللهِ وَلَكِنِّي عَجِبْتُ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ عِشَاءً مِنْ حَائِطٍ لِي كُنْتُ فِيهِ فَرَأَيْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا وَرَأَيْتُ بِعَيْنِيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنِيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَقِيلَ أَيُجْلَدُ هِلَالٌ وَتُبْطَلُ شَهَادَتُهُ فِي الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ هِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِكَ أَنَّكَ تَكْرَهُ مَا جِئْتُ بِهِ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِي فَرَجًا قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ تَرَبَّدَ لِذَلِكَ خَدُّهُ وَوَجْهُهُ وَأَمْسَكَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: أَبْشِرْ يَا هِلَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُوهَا " فَدُعِيَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ " فَقَالَ هِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا قُلْتُ إِلَّا حَقًّا وَلَقَدْ صَدَقْتُ، قَالَ: فَقَالَتْ هِيَ عِنْدَ ذَلِكَ: كَذَبَ، قَالَ: فَقِيلَ لِهِلَالٍ: تَشْهَدُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّكَ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَقِيلَ لَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ يَا هِلَالُ اتَّقِ اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللهُ أَبَدًا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا، قَالَ: فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ: اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ لَهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ: يَا هَذِهِ اتَّقِي اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ اللهِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ النَّاسِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَسَكَتَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى " ⦗٦٤٨⦘ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا " فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُثَيْبِجَ أُصَيْهِبَ أُرَيْسِحَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا فَهُوَ لِصَاحِبِهِ "، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا أَمْرٌ " قَالَ عَبَّادٌ: فَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ وَلَا يُدْرَى مَنْ أَبُوهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ [سورة النور: 4] ”وہ لوگ جو پاک دامن بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لاتے۔“ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کیا یہ ایسے نازل ہوئی؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصار کا گروہ! کیا تم اپنے سردار کی بات کو سن رہے ہو، وہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اس کو ملامت نہ کیجیے، یہ بڑا غیرت مند شخص ہے، اللہ کی قسم! اس نے ہمیشہ کنواری لڑکی سے ہی شادی کی ہے اور اپنی بیوی کو کبھی طلاق نہیں دی تو ہم میں سے کسی شخص نے جرات کی کہ شدت غیرت کی وجہ سے اس کی شادی کر دے، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جانتا ہوں یہ حق ہے اور اللہ کی جانب سے ہے لیکن میں تعجب کرتا ہوں اس طرح کی بات سے کہ رسول ہمارے درمیان موجود ہوں، اچانک سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ ان تینوں شخصوں میں سے ایک ہیں، جن کی اللہ نے توبہ قبول کی تھی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں گزشتہ رات شام کے وقت اپنے باغ میں آیا، میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو دیکھا، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات کو ناپسند کیا اور کہا: ہلال کو کوڑے لگائے جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیان اس کی شہادت کو باطل کردیا جائے گا؟ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنی بات کی وجہ سے آپ کے چہرے پر کراہت محسوس کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں اللہ میرے لیے نکالنے کی راہ بنا دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اسی حالت میں تھے کہ وحی نازل ہوگئی، رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کے رخساروں اور چہرے کی رنگت تبدیل ہوجاتی اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بات کرنے سے رک جاتے، جب وحی مکمل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ہلال! خوش ہوجاؤ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو بلاؤ۔“ اس کی بیوی کو بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے سچ کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے کہا: اس نے آپ کے پاس جھوٹ بولا ہے، تو ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے کہا گیا کہ آپ چار مرتبہ گواہی دیں کہ آپ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں گواہی کے موقع پر ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اور پانچویں گواہی عذاب الٰہی کو واجب کرنے والی ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیں گے، جیسے اس نے مجھ پر کوڑے نہیں برسائے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے پانچویں مرتبہ کی گواہی مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے، پھر اس کی بیوی سے کہا گیا کہ تو چار گواہیاں دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں گواہی کے موقع پر کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، اللہ کا عذاب لوگوں کی سزا سے زیادہ سخت ہے، یہ پانچویں بار کی گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کرنے والی ہے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کرسکتی، اس نے پانچویں بار کی گواہی دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچوں میں سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ عورت اور اس کے بچے پر تہمت نہ لگائی جائے گی، جس نے عورت اور اس کے بچے پر تہمت لگائی اس پر حد لگائی جائے گی اور مرد کے ذمہ اس عورت کی خوراک اور رہائش بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ بغیر طلاق اور خاوند کے فوت ہوئے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا اگر وہ موٹے موٹے سرینوں، بھورے رنگ، باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے۔ اگر وہ موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں، خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے تو شریک بن سحماء کا ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ اس نے خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں، موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہوچکی ہوتیں تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا۔“
عباد کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ شہروں کا امیر رہا، لیکن اس کے باپ کا علم نہ تھا۔