السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَسُئِلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَقَالَ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى، ⦗٦٠٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَامَّةُ الْفُقَهَاءِ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا قُلْنَا بِهِ إِلَّا أَنَّا لَا نُثْبِتُ حَدِيثًا يَرْوِيهِ مَنْ تُجْهَلُ عَدَالَتُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.علی بن مدینی سے عمرو بن معتب کے بارے میں پوچھا گیا، جس سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوالحسن کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں لونڈی تھی۔“ تو انہوں نے کہا: وہ مجہول ہے، اس سے یحییٰ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: عام فقہاء اس کے برخلاف ہیں جو اس نے روایت کیا ہے، اگر یہ ثابت ہوتی تو ہم اسی کے قائل ہوتے، لیکن ہم ایسی حدیث کو ثابت نہیں مانتے جسے وہ شخص روایت کرے جس کی عدالت معلوم نہ ہو، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہم سے ان کا اپنا قول اس کے برخلاف مروی ہے۔