کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15157
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " يَنْكِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَيْنِ وَيُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عتبہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام دو عورتوں سے شادی کر سکتا ہے اور دو طلاق دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 15158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٦٠٤⦘ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ وَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، وَأَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا، اس کے نکاح میں آزاد عورت تھی۔ اسے دو طلاق دے کر رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آؤ، تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کی سیڑھیوں پر ملا، جب انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، ان دونوں (رضی اللہ عنہما) سے نفیع نے پوچھا تو جلدی سے فرمانے لگے: وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی، وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی۔
حدیث نمبر: 15159
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا جس کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو اس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”وہ تیرے اوپر حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 15160
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّ نُفَيْعًا - مُكَاتَبٌ كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَفْتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا، اس نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھا، اس نے کہا: میں نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں، تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ تیرے اوپر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 15161
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ مُكَاتَبًا كَانَتْ تَحْتَهُ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَابْتَدَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَقَالَ لَهُ: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ وَالطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بشر حضرت ایوب سختیانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو حضرت عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے آکر سوال کیا، دونوں نے فوری جواب دیا کہ وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی؛ کیونکہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے۔
حدیث نمبر: 15162
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَلِيٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، نا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي نُفَيْعٌ أَنَّهُ كَانَ مَمْلُوكًا وَكَانَتْ عِنْدَهُ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَسَأَلَ عُثْمَانَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: " طَلَاقُكَ طَلَاقُ عَبْدٍ وَعِدَّتُهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، نفیع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ ایک غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، انہوں نے اسے دو طلاقیں دے دیں، انہوں نے سیدنا عثمان اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ دونوں فرمانے لگے: تیسری طلاق غلام والی ہے اور اس کی عدت آزاد عورت والی ہے۔
حدیث نمبر: 15163
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ مِنْ أَصْلِهِ نا ⦗٦٠٥⦘ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِيفِ أنا أَبُو خَلِيفَةَ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، نا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے اور عدت کا عورتوں سے ہے۔
حدیث نمبر: 15164
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ اثْنَتَيْنِ فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً، وَعِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلَاثُ حَيْضَاتٍ، وَعِدَّةُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ " هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے تو وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے، چاہے (وہ بیوی) آزاد ہو یا لونڈی، اور آزاد عورت کی عدت تین حیض جبکہ لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15165
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْحُرِّ تَبِينُ بِتَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ وَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ بَانَتْ بِتَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَمَذْهَبُهُ فِي ذَلِكَ أَنَّ أَيَّهُمَا رَقَّ نَقَصَ الطَّلَاقُ بِرِقِّهِ هَذَا هُوَ مَذْهَبُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے لوندی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو آزاد مرد کے نکاح میں ہو اسے دو طلاقیں جدا کر دیں گی اور وہ حیض کی عدت گزارے گی اور جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو تو طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی اور تین حیض عدت گزارے گی۔
(ب) سالم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کی طلاقیں غلامی کی وجہ سے کم ہوئی ہیں۔ [صحیح]
(ب) سالم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کی طلاقیں غلامی کی وجہ سے کم ہوئی ہیں۔ [صحیح]
حدیث نمبر: 15166
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ هَكَذَا مَرْفُوعًا وَكَانَ ضَعِيفًا وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ سَالِمٌ وَنَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا عَلَى مَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لونڈی کی دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہے۔“
حدیث نمبر: 15167
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ غَيْرُ ثَابِتٍ مِنْ وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنَّ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ وَسَالِمٌ وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً، وَالْوَجْهُ الْآخَرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ شَبِيبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ⦗٦٠٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حدیث نمبر: 15168
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ لَمْ يَكُنْ بِشَيْءٍ وَقَدْ رَأَيْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں (پانی) انڈیل دو۔“
حدیث نمبر: 15169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو عُمَرَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ، نا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَقُرْءُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ، وَتَتَزَوَّجُ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ، وَلَا تَتَزَوَّجُ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ " كَذَا قَالَ: طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کی دو طلاقیں ہیں اور وہ عورت اس کے لیے جائز نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے، لونڈی (یعنی بیوی) کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور آزاد عورت (یعنی بیوی) کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا اور فرمایا کہ غلام کی دو طلاقیں ہوتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 15170
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُطَلَّقُ الْأَمَةُ تَطْلِيقَتَيْنِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ " قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: أَخْبَرَنِيهِ مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لونڈی کو دو طلاقیں دی جائیں گی اور اس کی عدت دو حیض ہے۔“
حدیث نمبر: 15171
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، ضَعَّفَهُ أَبُو عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حدیث نمبر: 15172
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا أَبُو عَامِرٍ، نا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنْ عِدَّةِ الْأَمَةِ، فَقَالَ " النَّاسُ يَقُولُونَ حَيْضَتَانِ وَإِنَّا لَا نَعْلَمُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا فِي سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم رحمہ اللہ سے لونڈی کی عدت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں: دو حیض، لیکن ہم کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
حدیث نمبر: 15173
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ⦗٦٠٧⦘ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنِ الْأَمَةِ كَمْ تُطَلَّقُ؟ قَالَ: " طَلَاقُهَا اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ " قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا؟ قَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم رحمہ اللہ سے لونڈی کی طلاقوں کے بارے میں پوچھا گیا؟ فرمانے لگے: اس کی دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہے، جب ان سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ کی طرف سے آپ کو کچھ پہنچا؟ فرماتے ہیں: نہیں۔
حدیث نمبر: 15174
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، نا بُنْدَارٌ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ " أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق و عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
حدیث نمبر: 15175
وَقَدْ قِيلَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، نا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ الْقَرَاطِيسِيُّ نا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ وَرُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 15176
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ " هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے، جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
حدیث نمبر: 15177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبَّادٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ " هَكَذَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”سنت طریقہ یہ ہے کہ طلاق و عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 15178
وَقَدْ أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
(ب) عطاء حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
(ب) عطاء حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
حدیث نمبر: 15179
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: " الطَّلَاقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَاءِ " وَقَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِكْرِمَةَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا " إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کبھی نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کبھی نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔“
حدیث نمبر: 15180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُمَرَ، وَذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا جَاءَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
بنو نوفل کے غلام ابوالحسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں لونڈی تھی، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو وہ جدا ہو گئیں، پھر ان دونوں کو آزاد کر دیا گیا، تو کیا اس مرد کے لیے درست ہے کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔“
(ب) ابن مبارک رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے؟ تو انہوں نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی، وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار کرنا چاہتے تھے۔
(ب) ابن مبارک رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے؟ تو انہوں نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی، وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار کرنا چاہتے تھے۔
حدیث نمبر: 15181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَسُئِلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَقَالَ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى، ⦗٦٠٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَامَّةُ الْفُقَهَاءِ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا قُلْنَا بِهِ إِلَّا أَنَّا لَا نُثْبِتُ حَدِيثًا يَرْوِيهِ مَنْ تُجْهَلُ عَدَالَتُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں لونڈی تھی۔“
حدیث نمبر: 15182
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ: " لَا يَتَزَوَّجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک غلام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت کو آزاد کر دیا گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ غلام اس آزاد کردہ عورت سے شادی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 15183
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا أُعْتِقَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ عَلَى وَاحِدَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عدت کے ایام میں اسے آزاد کر دیا جائے تو وہ اس عورت سے شادی کر سکتا ہے اور یہ عورت اس کے پاس ایک طلاق پر رہے گی۔