السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15182
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ: " لَا يَتَزَوَّجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک غلام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت کو آزاد کر دیا گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ غلام اس آزاد کردہ عورت سے شادی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔