السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُمَرَ، وَذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا جَاءَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.حافظ ثناء اللہ
بنو نوفل کے غلام ابوالحسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں لونڈی تھی، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو وہ جدا ہو گئیں، پھر ان دونوں کو آزاد کر دیا گیا، تو کیا اس مرد کے لیے درست ہے کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔“
(ب) ابن مبارک رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے؟ تو انہوں نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی، وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار کرنا چاہتے تھے۔