السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15179
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: " الطَّلَاقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَاءِ " وَقَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِكْرِمَةَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا " إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کبھی نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔“