السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15178
وَقَدْ أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
(ب) عطاء حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔