السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15168
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ لَمْ يَكُنْ بِشَيْءٍ وَقَدْ رَأَيْتُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں (پانی) انڈیل دو۔“