السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15167
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ غَيْرُ ثَابِتٍ مِنْ وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنَّ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ وَسَالِمٌ وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً، وَالْوَجْهُ الْآخَرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ شَبِيبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ⦗٦٠٦⦘.حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی حافظ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عیسیٰ کی عطیہ سے، ان کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ان کی نبی ﷺ سے روایت منکر ہے اور دو وجہوں سے ثابت نہیں: ایک یہ کہ عطیہ ضعیف ہے اور سالم اور نافع اس سے زیادہ ثقہ اور روایت میں زیادہ صحیح ہیں، اور دوسری وجہ یہ کہ عمر بن شبیب ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔