السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو عُمَرَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ، نا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَقُرْءُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ، وَتَتَزَوَّجُ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ، وَلَا تَتَزَوَّجُ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ " كَذَا قَالَ: طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کی دو طلاقیں ہیں اور وہ عورت اس کے لیے جائز نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے، لونڈی (یعنی بیوی) کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور آزاد عورت (یعنی بیوی) کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا اور فرمایا کہ غلام کی دو طلاقیں ہوتی ہیں۔“