السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15166
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَاقُ الْأَمَةِ ثِنْتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ هَكَذَا مَرْفُوعًا وَكَانَ ضَعِيفًا وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ سَالِمٌ وَنَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا عَلَى مَا مَضَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لونڈی کی دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہے۔“
اسے اس طرح مرفوع صرف عمر بن شبیب مسلی نے بیان کیا ہے اور وہ ضعیف تھا، صحیح وہ ہے جو سالم اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت کیا ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے۔