السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15165
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْحُرِّ تَبِينُ بِتَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ وَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ بَانَتْ بِتَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَمَذْهَبُهُ فِي ذَلِكَ أَنَّ أَيَّهُمَا رَقَّ نَقَصَ الطَّلَاقُ بِرِقِّهِ هَذَا هُوَ مَذْهَبُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے لوندی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو آزاد مرد کے نکاح میں ہو اسے دو طلاقیں جدا کر دیں گی اور وہ حیض کی عدت گزارے گی اور جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو تو طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی اور تین حیض عدت گزارے گی۔
(ب) سالم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کی طلاقیں غلامی کی وجہ سے کم ہوئی ہیں۔ [صحیح]