السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15161
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ مُكَاتَبًا كَانَتْ تَحْتَهُ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَابْتَدَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَقَالَ لَهُ: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ وَالطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بشر حضرت ایوب سختیانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو حضرت عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے آکر سوال کیا، دونوں نے فوری جواب دیا کہ وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی؛ کیونکہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے۔