السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15162
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَلِيٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، نا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي نُفَيْعٌ أَنَّهُ كَانَ مَمْلُوكًا وَكَانَتْ عِنْدَهُ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَسَأَلَ عُثْمَانَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: " طَلَاقُكَ طَلَاقُ عَبْدٍ وَعِدَّتُهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، نفیع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ ایک غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، انہوں نے اسے دو طلاقیں دے دیں، انہوں نے سیدنا عثمان اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ دونوں فرمانے لگے: تیسری طلاق غلام والی ہے اور اس کی عدت آزاد عورت والی ہے۔