السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15160
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّ نُفَيْعًا - مُكَاتَبٌ كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَفْتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا، اس نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھا، اس نے کہا: میں نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں، تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ تیرے اوپر حرام ہے۔