السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15159
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا جس کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو اس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”وہ تیرے اوپر حرام ہے۔“