السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٦٠٤⦘ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ وَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، وَأَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مکاتب غلام تھا، اس کے نکاح میں آزاد عورت تھی۔ اسے دو طلاق دے کر رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آؤ، تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کی سیڑھیوں پر ملا، جب انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، ان دونوں (رضی اللہ عنہما) سے نفیع نے پوچھا تو جلدی سے فرمانے لگے: وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی، وہ تیرے اوپر حرام ہوگئی۔