السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من استعفى فإن لم يعف أجاب باب: اس شخص کا بیان جو (دعوت میں شرکت سے) معذرت طلب کرے، پھر اگر اسے معاف نہ کیا جائے تو وہ دعوت قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 14542
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دُعِيَ يَوْمًا إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا فَاعْفِنِي مِنْ هَذَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا عَافِيَةَ لَكَ مِنْ هَذَا فَقُمْ فَقَامَ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک دن کھانے کی دعوت دی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا میں اس سے معذرت نہ کرلوں؟“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”تیری کوئی معذرت قبول نہیں، چلو۔“